گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان سے متعلق ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی دارالحکومت کے جاری و مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک کے پیچیدہ مسائل کے حل، سڑکوں کی بحالی، نئے انڈر پاسز کی تعمیر، پارکنگ بحران، تجاوزات کے مستقل خاتمے اور بنیادی شہری سہولیات کی بہتری کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مشیر خزانہ طارق محمود پاشا، مشیر بلدیات آصف رفیق، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان سمیت تمام متعلقہ شعبوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کو پشاور ماسٹر ڈویلپمنٹ پلان کے تحت طے شدہ 100 اور 180 روزہ اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رنگ روڈ مسنگ لنک کے فیز ون اور ٹو کی مکمل دستیابی، نئے انڈر پاسز کی تعمیر، الیکٹرک پولز کی تنصیب، سٹریٹ لائٹس اور کیبلنگ کے منصوبے 100 روزہ اہداف کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شادی کی ویڈیوز سے بلیک میلنگ کا خطرہ، کے پی پولیس کا شہریوں کو انتباہ!
اس وقت پشاور میں 3 انڈر پاسز مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ پشتخرہ اور جمیل چوک انڈر پاسز جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔
مزید برآں رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ پر 500 ملین روپے کی بھاری لاگت سے الیکٹرک پولز کی تنصیب، بحالی اور لائٹنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس کو پشاور کی 35 اہم سڑکوں کی بحالی، تعمیر اور اپ گریڈیشن کے پلان سے بھی آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پیر زکوڑی فلائی اوور کے لیول ٹو کی تعمیر اور ناصر باغ روڈ کی توسیع کا کام شروع ہے جبکہ یونیورسٹی روڈ، رام داس چونگی اور لاہوری چوک فیز ون پر انڈر پاسز کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔
اس کے علاوہ 323 کنال اراضی پر محيط نیو پشاور بس ٹرمینل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت جلد فعال کرنے، پرانے بس اڈوں پر شاپنگ مالز و فلیٹس کی تعمیر اور تجاوزات کے آپریشن کے فوراً بعد 2 دنوں کے اندر ملبہ ہٹا کر ان اراضی کو خوبصورت پبلک سپیسز اور پارکس میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کو پیر زکوڑی فلائی اوور سے امن چوک کارخانو مارکیٹ تک بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے کی فزیبلٹی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ پورے پشاور شہر میں بجلی کے نیٹ ورک کو زیر زمین منتقل کیا جائے تاکہ شہری خوبصورتی میں اضافہ ہو اور بجلی چوری کی مکمل روک تھام ممکن ہو سکے۔
انہوں نے یونیورسٹی روڈ کی کارپٹنگ ترجیحی بنیادوں پر کرنے اور پشاور کے کینال روڈز کو لاہور کی طرز پر جدید لائٹنگ کے ذریعے خوبصورت بنانے کا حکم دیا، جبکہ تمام منصوبے وقتِ مقررہ پر مکمل کرنے کی سخت تاکید کی گئی۔
پشاور میں ٹریفک کے گھمبیر مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بریفنگ میں بتایا گیا کہ دلہ زاک روڈ، چارسدہ روڈ اور سرکلر روڈ پر سینٹر میڈین کی تعمیر ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے جبکہ 2016 کے بعد سے متعلقہ قانون کی عدم موجودگی کے باعث کوئی رکشہ یا چنگ چی رجسٹرڈ نہیں ہو سکا ہے۔
اس موقع پر ای چالان سسٹم کے نفاذ پر بھی بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : بزرگ شہریوں کو لائنوں میں نہیں لگنا پڑے گا! چارسدہ انتظامیہ کا تاریخی اقدام!
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ٹریفک پولیس کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے، کوہاٹ روڈ انڈر پاس کی فزیبلٹی تیار کرنے، چنگ چی و رکشوں کی رجسٹریشن کے لیے ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم چلانے کے احکامات جاری کیے۔
انہوں نے سیاحتی مقامات کی فوری تزئین و آرائش اور واگزار کرائی گئی اراضی کو عوام کی تفریح کے لیے بہترین پبلک سپیسز میں تبدیل کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ شہریوں کو معیاری ماحول میسر آ سکے۔





