امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سنسنی خیز اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ایسے جدید اور دور رس مار کرنے والے میزائل تیار کر لیے ہیں جو نہ صرف پورے یورپ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ سان ڈیاگو اور لاس اینجلس سمیت خود امریکہ کے دیگر اہم شہروں کو بھی سیکنڈوں میں نشانہ بنا سکتے ہیں۔
امریکی ریاست مسیسیپی میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کی اور موقف اپنایا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کسی جنگ کی شروعات نہیں کی تھی بلکہ خود ایران نے امریکہ کے خلاف جنگی حالات پیدا کیے اور جنگ شروع کی۔
انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی فوجی اقدام کا پرزور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے معاشی اثرات اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا انہیں پہلے سے اندازہ تھا بلکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ تیل کی قیمتیں اس سے بھی کہیں زیادہ بلند سطح پر پہنچ جائیں گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سخت ترین موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس شدید اور حتمی اقدام کے لیے سٹریٹجک طور پر پوری طرح تیار تھے کیونکہ ان حالات میں امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی باقی نہیں بچا تھا اور یہ فوجی کارروائی اصل میں بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں : بیلون ڈی اور 2026 کی تقریب سے قبل ہیری کین کی کامیابی کی خبر وائرل
طرفین کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ انہیں یہ معاہدہ یا انتظام کبھی بھی زیادہ پسند نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کا راستہ اختیار کر کے محض ایک اچھا اور نرم فریق بننے کی ناکام کوشش کی تھی، لیکن ان کے نزدیک یہ لائحہ عمل کسی فائدے کے بغیر محض وقت کا ضیاع ثابت ہوا ہے۔





