پشاور: پشاور میں یومِ سیاہِ کشمیر کے موقع پر گورنر ہاؤس کے باہر ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک نکالے گئے پیدل مارچ میں اسکول کے بچوں، ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے کشمیر کے حق میں اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان اور خیبرپختونخوا کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور مسئلہ کشمیر کو مذاکرات اور پُرامن ذرائع سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔
گورنر نے پاکستان کے سفارتی اور امن کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کی۔
انہوں نے پاک فوج کی دفاعی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل فوج نے تین دن کے اندر دشمن کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : شہروں کا حسن بحال، شہریوں کا دیرینہ خواب پورا، پشاور اور مردان کی سڑکیں شیشے کی طرح چمک اٹھیں
فیصل کریم کنڈی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
دوسری جانب یومِ سیاہِ کشمیر کے سلسلے میں ریسکیو 1122 کے صوبائی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خطیر احمد کی ہدایات پر خیبرپختونخوا کے مختلف ریسکیو اسٹیشنز پر بھی واکس کا اہتمام کیا گیا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔
ڈاکٹر خطیر احمد نے اپنے پیغام میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کشمیریوں کے حوصلے، عزم اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جبر کے ذریعے آزادی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ کشمیری عوام کو ان کے حقوق حاصل ہوں گے۔





