پشاور: پاکستان کے دفاعی اور سفارتی محاذ پر ایک ایسے باب کا آغاز ہو چکا ہے جو آنے والی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
پشاور سمیت ملک بھر کے غیور شہریوں کی زبان پر اس وقت صرف ایک ہی نام ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنہوں نے وہ کر دکھایا جو دہائیوں سے ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔
سعودی عرب کے ساتھ مشکل ترین حالات میں طے پانے والے تاریخی معاہدے ہوں یا سالوں سے ایک دوسرے سے نبرد آزما سعودی عرب اور ایران کے اعلیٰ حکام کو ایک میز پر لانا سپہ سالارِ پاکستان نے اپنی مدبرانہ اور جرأت مندانہ قیادت کا لوہا پوری دنیا میں منوا لیا ہے۔
اسلامی دنیا کی بڑی عسکری و سیاسی طاقتوں (پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، ایران) کا بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ بلاک یا چھت تلے جمع ہونا۔
پشاور کے عوام کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تاریخ رقم کر دی ہے اور دشمن کی تمام سازشوں کو مٹی میں ملا دیا ہے۔
جو منظر تل ابیب اور واشنگتن کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، وہ آج تہران کے ایوانوں میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی اور نیتن یاہو کے اعصاب پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خوف طاری، تہران کی تاریخی بیٹھک نے دشمن کے ہوش اڑا دیے
بہترین اور پائیدار سفارت کاری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے ایک ہی کمرے میں باہمی اتحادیوں کی طرح بیٹھ کر خطے کے مستقبل پر غوروخوض کر رہے ہیں۔
سی آئی اے اور موساد جیسے غاصب اداروں کا ہمیشہ سے یہی مکروہ ہتھکنڈا رہا ہے کہ وہ تہران اور ریاض کے درمیان خلیج کو ہمیشہ وسیع رکھیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں آگ جلتی رہے اور وہ اپنے ناپاک مفادات حاصل کرتے رہیں۔
لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان تمام فالس فلیگ آپریشنز اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کو بری طرح ناکام بنا دیا ہے۔
قومی میڈیا کے اداریوں میں بھی اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ تہران میں ہونے والا یہ چار ملکی اجلاس محض ایک معمولی سفارتی بیٹھک نہیں، بلکہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے کا سب سے بڑا اسٹرٹیجک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔
حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والی سازشوں کے اس نازک دور میں، پاکستان کی پسِ پردہ اور مخلصانہ سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں : عوام کے لیے امن بھی اور روزگار بھی، پختونخوا انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کا مشترکہ ایکشن پلان جاری
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پس منظر میں پیدا ہونے والے تعطل کے باوجود، سپہ سالارِ پاکستان نے مصالحت کا دامن نہیں چھوڑا اور ثابت کر دیا کہ پاکستان اس خطے میں امن اور ترقی کا اصل ضامن ہے۔
اگرچہ ایک ہی ملاقات دہائیوں پر محیط کشیدگی کو پل بھر میں ختم نہیں کر سکتی، لیکن اس عظیم اتحاد کے بیج بو دیے گئے ہیں جو آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کو بیرونی محتاجی اور غلامی سے مکمل نجات دلائیں گے۔
غزہ سے لے کر خلیج تک کے حالیہ دلخراش حالات نے یہ اٹل حقیقت آشکار کر دی ہے کہ اگر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران اپنے معمولی اختلافات کو بھلا کر ایک واحد سیکیورٹی فریم ورک کے تحت اکٹھے ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔
پشاور کے عوام کے پرجوش الفاظ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وہ کر دکھایا جو کوئی نہ کر سکا اور اب اس ابتدائی پود کو ایک تناور درخت میں بدلنے کا سفر شروع ہو چکا ہے، جو پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط دفاع کی ضمانت بن گیا ہے۔





