پشاور: پشاور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہر میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے 10 لاکھ سے زائد افراد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کی سرگرمیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں میں غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز مبینہ طور پر کمیشن کے عوض ایسے افراد کو مکانات کرایے پر فراہم کر رہے ہیں جن کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں ہوتا۔
اس صورتحال کو سکیورٹی کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کرایہ داروں کی مناسب جانچ پڑتال اور کوائف کا اندراج نہ ہونے سے متعلقہ اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سانس کے مریضوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، آکسیجن سلنڈر ہزاروں روپے مہنگے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں پراپرٹی ڈیلنگ کے شعبے میں غیر متعلقہ افراد کی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ٹیلرز، دودھ فروش، جنرل اسٹور مالکان، موچی، رکشہ ڈرائیور، چوکیدار اور دیگر پیشوں سے وابستہ بعض افراد مبینہ طور پر پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کر رہے ہیں، تاہم ان میں سے متعدد کے پاس متعلقہ رجسٹریشن یا ضروری دستاویزات موجود ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف کارروائیوں کے دوران زیرِ حراست آنے والے بعض افراد کے کوائف اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کے کردار پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ حکام کی جانب سے اس معاملے کو سکیورٹی انتظامات اور کرایہ داری کے ریکارڈ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وہ کر دکھایا جو دہائیوں میں کوئی نہ کر سکا، شہریوں کا خراجِ تحسین
رپورٹ کے مطابق غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز سے متعلق تفصیلات شہر کے مختلف تھانوں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد پراپرٹی ڈیلنگ کے نظام کو قانون کے دائرے میں لانا، کرایہ داروں کی معلومات کا ریکارڈ بہتر بنانا اور سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنا بتایا گیا ہے۔





