وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ علیمہ خان نے انہیں یہ کہا تھا کہ معدنیات کا بل پاس ہونے نہ دیا جائے۔
انہوں نے نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے قائدین اور بانی پی ٹی آئی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ یہ بات کس ملک کے مفاد کے لیے کر رہے ہیں؟
مصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ کس آئین اور قانون کے تحت کیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آج آزادی اظہار رائے کی صورتحال یہ ہے کہ اگر آج اس آزادی پر قدغن ہے، تو یہ گزشتہ چار سال سے بھی موجود تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست کو آگے بڑھانے کا وقت اب بہت ضروری ہے اور اس کا آغاز تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کرنے سے ہی ممکن ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گزشتہ ایک سال سے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں مذاکرات میں شامل کیا جا سکے۔ ہم پی ٹی آئی کو اب بھی دعوت دے رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ بات چیت کا حصہ بنیں تاکہ ملک کی ترقی کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں اڈیالہ جیل کے باہر گرفتاریاں، عمران خان کی تینوں بہنیں گرفتار
مصدق ملک نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے گزشتہ چھ مہینوں تک کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک بات چیت نہیں کریں گے۔ وہ اب بھی پی ٹی آئی کو بات چیت کی دعوت دے رہے ہیں۔
وزیر نے ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ اس منصوبے کا فیز ون 2027 میں کمرشلائز ہو جائے گا، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔





