جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں پر سوال اٹھا دیا

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ رابطوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے ان سے رابطہ کر کے اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے، تاہم جے یو آئی اس معاملے پر مزید وضاحت چاہتی ہے، خصوصاً پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی جانب سے۔

کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی ایک طرف اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہے اور دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ سے پسِ پردہ رابطوں کی کوشش بھی کر رہی ہے تو یہ جے یو آئی کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے پر بات نہ رکی تو “اپوزیشن اتحاد کا اللہ حافظ ہے”۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے آپس میں روابط ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ایسی صورت میں ہم خود کو اتحاد سے الگ کرنے پر مجبور پائیں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی تصدیق کی تھی کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سینیٹر اعظم سواتی کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں حکومت کیساتھ بات چیت مسترد، اسٹیبلشمنٹ کیساتھ بات چیت کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا،عمران خان

منگل کے روز اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں اور وکلاء سے گفتگو کے دوران عمران خان نے واضح کیا کہ یہ رابطے ان کے ذاتی قانونی معاملات کے لیے نہیں بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں کیے جا رہے ہیں۔

جے یو آئی کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد پر مشاورت جاری ہے، تاہم پی ٹی آئی کے متوازی رابطے اس اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Scroll to Top