خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں نقل مافیا نہ صرف فعال ہے بلکہ وہ امتحانی عملے کی ڈیوٹیاں بھی خود طے کرتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نقل مافیا تعلیمی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اس کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
میٹرک امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے کوآرڈینیشن اجلاس میں پشاور تعلیمی بورڈ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ پشاور تعلیمی بورڈ نقل کے خاتمے اور شفافیت کے حوالے سے مثالی کردار ادا کر رہا ہے جس کی تقلید دیگر بورڈز کو بھی کرنی چاہیے، انہوں نے اعلان کیا کہ تمام تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ جب تک نقل کا خاتمہ نہیں ہوتا، معیاری طلبہ سامنے نہیں آ سکتے۔ تعلیم کو کاروبار بنا دیا گیا ہے اور اس نظام میں سیاست کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔
چہف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کہا کہ کہ تمام تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جب تک امتحانی نظام میں مکمل شفافیت نہیں آئے گی، ملک اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ان کا کہنا تھا کہ نقل کی روک تھام امتحانی عملے کے مکمل تعاون سے ہی ممکن ہے۔؎
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا ! اساتذہ کی 16ہزار آسامیوں پر بھرتی ،ایٹا کا تحریر ی امتحان آج منعقد
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں 49 لاکھ بچے تاحال سکولوں سے باہر ہیں جبکہ 90 لاکھ بچے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، انہوں نے اساتذہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان کے وقار اور کردار کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے۔





