سلمان یوسفزئی
پشاور — پشاور یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلیشنز (آئی آر) ڈیپارٹمنٹ میں زیر تعلیم ایک طالبہ نے اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر پر امتحانات کے دوران مبینہ جنسی ہراسگی کا الزام عائد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طالبہ نے امتحانات کے دوران ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈینیٹر کی مبینہ جانبداری اور رویے پر اعتراض کیا۔ شکایت کنندہ طالبہ کا کہنا ہے کہ جب وہ شکایت کے لیے متعلقہ پروفیسر کے دفتر گئیں تو انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو طالبہ کے مطابق ہراسگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
متاثرہ طالبہ نے یہ واقعہ اپنے والدین کو بتایا، جس پر ان کے اہل خانہ نے یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر سے ملاقات کی اور باقاعدہ تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت میں مذکورہ پروفیسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان نعمان خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکنڈ سمسٹر کی طالبہ کی شکایت پر انتظامیہ نے فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو تمام فریقین کے بیانات قلمبند کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ استاد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مالاکنڈ یونیورسٹی ہراسانی واقعہ کی تحقیقات مکمل، طالبات کی نازیبا ویڈیوز کا دعویٰ جھوٹا نکلا
یہ پہلا موقع نہیں کہ خیبرپختونخوا کی کسی یونیورسٹی میں طالبات نے ہراسگی کی شکایت کی ہو۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، تاہم مؤثر تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر شکایات دب جاتی ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق سماجی دباؤ، بدنامی کے خوف اور اداروں کی سست روی کی وجہ سے بیشتر متاثرہ طالبات خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔





