سکھر — چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کی جانب سے دریائے سندھ پر ممکنہ تجاوزات اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب اگر سندھو پر حملہ ہوا ہے تو اس کا جواب سخت اور دو ٹوک ہو گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ “اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون”، اور اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج بھارت کو سرحد پر منہ توڑ جواب دے گی۔
سکھر میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دریائے سندھ پر نہریں بنانے کا فیصلہ صرف عوامی رضامندی سے ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہے جس میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی مشاورت کے بغیر دریائے سندھ پر کوئی نئی نہر نہیں بنائی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ یہ طے ہو چکا ہے کہ اب وفاقی حکومت کوئی بھی فیصلہ صوبوں کی مشاورت اور باہمی رضا مندی کے بغیر نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے وعدہ کیا تھا کہ سندھو کو بچائیں گے، اور آج ہم اپنے وعدے پر پورا اترے ہیں۔ یہ سندھ کے عوام کی کامیابی ہے، یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔
”
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ اگر جیالے میدان میں نہ آتے تو یہ کامیابی ممکن نہ ہوتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانی کی تقسیم کے مسئلے پر 2 مئی کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جہاں سندھ کے نمائندے کی موجودگی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
بلاول نے بھارت کی یک طرفہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی ناکام سیکیورٹی پالیسیوں اور کشمیر میں ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم دریائے سندھ کے وارث ہیں، ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ پاکستانی عوام غیور ہیں، اور ہر طرح کے حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ بھارت کا فیصلہ واپس نہ لینے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اور پوری قوم کو یک زبان ہو کر بھارت کو منہ توڑ جواب دینا ہو گا۔ بلاول بھٹو نے جلسے کے اختتام پر اعلان کیا کہ وہ یکم مئی کو میرپور خاص میں بھی جلسہ کریں گے، جہاں وہ اس مسئلے پر مزید عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے عوام سے مخاطب ہوں گے۔





