ارشد چائے والا افغان نکلا، آئی ایس آئی اور آئی بی نے افغان شہریت کی تصدیق کر دی

ارشد چائے والا افغان نکلا، آئی ایس آئی اور آئی بی نے افغان شہریت کی تصدیق کر دی

ارشد چائے والا کی شہریت پر سوالیہ نشان، آئی ایس آئی و آئی بی کی رپورٹ میں افغان شہری قرار، کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں مشہور شخصیت ’’ارشد چائے والا‘‘ کی شہریت سے متعلق اہم کیس کی سماعت بغیر کسی حتمی فیصلے کے غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔ سماعت کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں ارشد خان کو افغان شہری قرار دیا گیا، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت نادرا کے نمائندے نے عدالت سے مزید رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی، جو منظور کر لی گئی۔ ارشد خان کے وکیل نے بھی اضافی وقت کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، ارشد چائے والا کا اصل نام ’’زر خان ولد باز محمد خان‘‘ ہے اور اسے افغان شہری قرار دیا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد اس کی پاکستانی شہریت اور نادرا کے جاری کردہ شناختی دستاویزات کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

تاہم، ارشد خان کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 1999 میں اسلام آباد کے علاقے شاہ اللہ دتہ میں پیدا ہوا، وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی، اور 17 سال کی عمر سے اتوار بازار میں چائے کا اسٹال چلا رہا ہے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارشد کا 2016 میں پاسپورٹ اور 2017 میں قومی شناختی کارڈ نادرا نے تمام دستاویزات کی جانچ کے بعد جاری کیا۔

پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ارشد خان کا افغان شہریت سے کوئی تعلق نہیں، نہ کبھی افغانستان گیا، نہ افغان شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کا حامل ہے۔ مزید کہا گیا کہ اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنا غیر قانونی اقدام ہے جس سے نہ صرف اس کا کاروبار متاثر ہوا بلکہ پاکستان کی عالمی شہرت اور سوشل میڈیا پر موجودگی کو بھی نقصان پہنچا، جو اس کے باعث پاکستان کو بھاری زرِمبادلہ حاصل ہوا۔

درخواست گزار نے شکوہ کیا کہ ارشد ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور 1978 سے قبل کی پراپرٹی رجسٹری جیسا ناقابلِ فراہمی ثبوت مانگا جا رہا ہے، جو ناصرف غیر منصفانہ ہے بلکہ زمینی حقائق سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

اب کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے اور تمام فریقین کو آئندہ سماعت تک مزید شواہد اور دلائل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Scroll to Top