روس کا پاک بھارت کشیدگی پر ردعمل سامنے آگیا

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں بھارتی سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر روس کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

روس نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کریں۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تعینات روسی سفیر خالد جمیل نے ماسکو میں روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں موجودہ علاقائی صورتحال، خاص طور پر کشمیر میں حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر گفتگو کی گئی۔

بیان میں روس نے کہا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور موجودہ کشیدہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پیلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور دیگر یکطرفہ اقدامات پر پاکستان نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ دونوں ممالک کی سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے اور سفارتی سطح پر بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں امریکی وزیرِ خارجہ پاکستان اور بھارت سے رابطہ کریں گے، کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں جاری: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت خود ہی اس تناؤ کا حل نکال لیں گے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں لیکن جموں و کشمیر کے حوالے سے کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی طاقتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور سفارتی حلقوں کی جانب سے مذاکرات اور تحمل پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top