اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ رویے، الزامات اور خطے میں پیدا کردہ کشیدگی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں، اور بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات محض کشمیر میں اس کی سیکورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور وہاں کی اصل صورتحال کو چھپانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور اگر پاکستان کے پانی کا ایک قطرہ بھی روکا گیا تو اسے اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں جان بوجھ کر حالات کو سنگین بنا رہا ہے اور مختلف واقعات کو مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ “ایک انسان کی زندگی بچانا، گویا پوری انسانیت کی زندگی بچانا ہے” — یہ ہماری قومی اور اسلامی پالیسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نہ صرف عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کیا بلکہ فرنٹ لائن ریاست کا کردار بھی ادا کیا۔ بھارت خود پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں دہشتگردی میں ملوث ہے، جبکہ پاکستان بھارت کی سہولت کاری سے ہونے والی دہشتگردی کا نشانہ بنا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈا کرتا ہے اور دوسروں پر الزام تراشی کر کے اپنی ناکامیوں کو چھپاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ بھارتی پروپیگنڈے کے مقاصد کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال پر اپنے دوست ممالک سے رابطے میں ہے اور ہر فورم پر بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کرے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بھارت کی جانب سے پہلگام واقعہ کے حوالے سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کی جائے وقوعہ پاکستان کی حدود سے 230 کلومیٹر دور واقع ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام دشوارگزار پہاڑی علاقہ ہے، جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے کم از کم تیس منٹ درکار ہیں تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ دس منٹ میں ایف آئی آر درج کر لی گئی؟ اس کے باوجود بھارتی میڈیا نے واقعہ کے فوراً بعد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ واقعہ فوراً ہی مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا اور ایک ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، جو کہ میانوالی کے واقعے کے حوالے سے ایک دن پہلے ہی سرگرم تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ بھارتی میڈیا نے زپ لائن آپریٹر کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا، جو کہ حقیقت سے بہت دور تھا۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی کی، جو کہ بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارت کے خلاف سنگین انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوری بعد مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، جو جعفر ایکسپریس حملے اور کراچی میں چینی شہریوں پر حملے سے متعلق بھی پہلے ٹویٹس کر چکے تھے۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ الزام تراشی سے کام نہیں چلے گا، بھارتی حکومت کو ان سنگین سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت میں درجنوں پاکستانیوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں رکھا گیا ہے اور انہیں جعلی پولیس مقابلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ بھارتی فوج کا حاضر سروس آفیسر دہشت گردوں کا ہینڈلر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت گزشتہ 50 سال سے اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے — “پاکستان پر الزام عائد کرو، اس کا کریڈٹ لو، اور الیکشن جیتو”۔ پلوامہ واقعے کی طرح، اب پہلگام واقعے کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہر واقعے کو ایک ہی طرز پر استعمال کرتا ہے تاکہ عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “کوئی اسلامی، ہندو یا کرسچن دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا”۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔





