سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کو درست قرار دیدیا

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کو درست قرار دیدیا

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو درست قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے انٹرا کورٹ اپیلوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو درست قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے انٹرا کورٹ اپیلوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 5 رکنی بینچ کا سویلینز کے حق میں دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت اور وزارتِ دفاع کی اپیلیں منظور کر لیں۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم 7 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں 2 کے مقابلے میں 5 کی اکثریت سے منظور کر لی گئی ہیں۔

فیصلے کے مطابق، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے فیصلے سے اختلاف کیا، جب کہ اکثریتی ججوں نے سویلینز کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات کو آئینی قرار دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ ان حساس نوعیت کے مقدمات پر اثرانداز ہوگا جو حالیہ عرصے میں دہشتگردی، قومی سلامتی اور عسکری اداروں پر حملوں کے تناظر میں فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے تھے
یہ عدالتی فیصلہ ملک کی قانونی اور دفاعی پالیسیوں کے لیے اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

Scroll to Top