پشاور: سینئر صحافی طارق وحید نے خبردار کیا ہے کہ بھیک مانگنے میں بچوں کا شامل ہونا ایک نہایت خطرناک اور تشویشناک رجحان ہے، جو نہ صرف ان بچوں کے مستقبل بلکہ معاشرتی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بچے منشیات، جرائم اور استحصال کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں کیونکہ سڑکوں پر ہر قسم کے افراد کی موجودگی میں ان کا غیر محفوظ ہونا طے شدہ امر ہے۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے طارق وحید نے کہا کہ اگر کوئی بچہ کسی منظم بھکاری گروہ سے وابستہ ہے اور وہاں سے رقم لا کر گھر دیتا ہے تو سب سے پہلے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے بازپرس کریں اور اس عمل کی روک تھام کریں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 2025 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک مختلف ممالک سے کم از کم 500 پاکستانی بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
ان میں متحدہ عرب امارات نمایاں ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں ویزوں کی بندش کی ایک بڑی وجہ پاکستانی بھکاریوں کی آمد بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت نے رکاوٹ نہ ڈالی تو 20 لاکھ افراد سڑکوں پر لائیں گے، عادل خان بازئی
طارق وحید نے زور دیا کہ حکومت اور معاشرے کو مشترکہ طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا، تاکہ بچوں کو تعلیم اور تحفظ فراہم کیا جا سکے، اور انہیں بھیک مانگنے جیسے خطرناک راستوں سے بچایا جا سکے۔





