پی ٹی آئی رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کیخلاف نااہلی ریفرنس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہوئی۔ سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔
نجی ٹی وی چینل( ایکسپریس نیوز) کے مطابق، سماعت کے دوران عمر ایوب روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ انہیں ریفرنس کی کاپی موصول ہو چکی ہے، تاہم ابھی انہوں نے وکیل مقرر نہیں کیا۔
عمر ایوب نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ بجٹ اجلاس کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور وہ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے رکن بھی ہیں، اس لیے انہیں وکیل مقرر کرنے اور بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے مہلت دی جائے۔ انہوں نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت جولائی میں رکھی جائے۔
اس موقع پر ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی نے نشاندہی کی کہ اسپیکر ریفرنس پر کارروائی کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہوتی ہے۔ بعد ازاں، الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔
دوران سماعت، عمر ایوب کے وکیل نے بھی جواب جمع کرانے اور دلائل کی تیاری کے لیے وقت مانگا، جسے کمیشن نے منظور کر لیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر درخواست گزار بابر نواز نے بھی تیاری کے لیے وقت مانگا تھا۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس قومی اسمبلی کے اسپیکر کو موصول ہوا، جس پر بغیر غور و فکر کے الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے اس ریفرنس پر کسی سے مشاورت نہیں کی۔
عمر ایوب نے مزید کہا،’’2018 کے انتخابات میں میں نے اپنے مخالف کو 40 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ 2023 کا بلدیاتی انتخاب ابھی ہوا ہی نہیں۔ میرا مخالف پہلے ایبٹ آباد ہائی کورٹ بھی جا چکا ہے، جہاں اس کا ریفرنس خارج کر دیا گیا۔‘‘عمر ایوب نے مؤقف دہرایا کہ بجٹ کا مہینہ ہے، اس لیے مناسب وقت دیا جائے تاکہ مکمل تیاری کے ساتھ اپنا دفاع پیش کر سکیں۔





