وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش کیے جانے کا امکان، اقتصادی ترقی 3.6 فیصد اور مہنگائی 7.7 فیصد رہنے کی پیشگوئی

بجٹ:مختلف شعبوں پرنئے ٹیکس عائد کرنے اور بعض پر رعایت ختم کرنے کی تیاری

آئندہ مالی سال کےبجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور مراعات کے خاتمے کی تیاری مکمل کر لی گئی۔

آئی ایم ایف کی سفارش پر زرعی آمدن،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور فری لانس کمائی کو بھی ٹیکس دائرہ کار میں لانے کا امکان ہے،تنخواہ دار طبقے کو معمولی ریلیف دیئے جانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

تنخواہ دارطبقےکو دس فیصد ریلیف، پنشن میں پانچ سے ساڑھے سات فیصد تک اضافے اور گریڈ ایک سے سولہ کے ملازمین کو تیس فیصد الاؤنس دیے جانے کی تجاویز شامل ہیں،ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے

آئی ایم ایف کھاد،کیڑے مار ادویات اور بیکری آئٹمز پر ٹیکس عائد کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔سابق فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کر کے بارہ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔شیئرز اور پراپرٹی پر کیپیٹل گینز ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صوابی،نہر میں ڈوبنے والے پشاور کے دو نوجوانوں کی لاشیں نکال لی گئیں

آئی ایم ایف نےمعیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس چوری کی روک تھام پر زور دیا ہے،زرعی آمدن کو ٹیکس کے دائرےمیں لانے،بیرون ملک سے فری لانس آمدن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سےحاصل کمائی پر بھی ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں،پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے اور مشروبات و سگریٹس پر ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

Scroll to Top