امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کا دنیا کے لیے جوہری خطرہ اب ختم کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آتے تو امریکہ کی جانب سے مزید شدید اور مہلک حملے کیے جائیں گے۔
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اگر ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوئے تو آئندہ حملے کہیں زیادہ شدید ہوں گے اور ان پر عمل درآمد بھی کہیں آسان ہوگا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ دو راستوں میں سے ایک پر چلنے کو تیار ہے یا تو امن قائم ہوگا یا پھر ایران کو ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جو گزشتہ آٹھ دنوں میں ہونے والی تباہی سے کہیں زیادہ سنگین ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اگر ایران نے لچک نہ دکھائی تو فوجی کارروائی میں شدت لائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے خطے میں وسیع پیمانے پر فوجی وسائل منتقل کر دیے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ فوری اور مؤثر کارروائی کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاتھوں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں نے بہت پہلے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ایسا ہونے نہیں دوں گا، اور یہ سلسلہ اب مزید جاری نہیں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے حملے کے بعد ایران کا جوابی کارروائی کا اعلان
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی مبارکباد دی اور کہا کہ وہ ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے اس ہولناک خطرے کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔





