امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبر دار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی، آبنائے ہرمز بند ہوئی تو ہمارے پاس نمٹنے کے اختیارات موجود ہیں۔
امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے ممکنہ فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک بھیانک غلطی قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کوئی اقدام اٹھایا تو یہ ان کی تاریخ کا بدترین فیصلہ ہوگا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں ہے نہ ہی واشنگٹن ایرانی حکومت کی تبدیلی کو اپنا ہدف سمجھتا ہے تاہم اگر ایران نے جارحانہ اقدامات کیے تو امریکا کے پاس اس کا جواب دینے کے مکمل اختیارات موجود ہیں۔
مارک روبیو نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور کچھ عرصہ قبل وہ 9 سے 10 ایٹمی بم بنانے کے لیے درکار افزودہ یورینیم بھی حاصل کر چکا تھا، اب ان کے پاس یہ مقدار پہلے جیسی نہیں رہی۔
امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو یہ معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا، یہ قدم صرف خطے میں نہیں بلکہ عالمی معیشت میں بھی سنگین بحران پیدا کر سکتا ہے اور امریکا کے پاس ایسے کسی بھی اقدام سے نمٹنے کی پوری تیاری موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی
مارکو روبیو نے ایران کے خلائی پروگرام پر بھی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ تہران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان پر جوہری وارہیڈ نصب کیے جا سکیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے واضح کیا کہ فی الحال امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کسی نئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تاہم تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔





