جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ فلسطین، عراق، افغانستان اور اب ایران کے مظلوموں کے خون سے رنگے ہیں، حکومت پاکستان فوراً سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی سفارش واپس لے۔
مولانا فضل الرحمان نے ایران پر حالیہ امریکی حملے کو بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایران کی حمایت نہیں کریں گے تو کیا اسرائیل کا ساتھ دیں گے؟ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکا سے دوستی قابل قبول ہے مگر غلامی ہرگز نہیں، تعلقات کی بنیاد قومی خودمختاری، عوامی حاکمیت اور معاشی آزادی پر ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ میں امریکی وفد تین بار ان سے ملاقات کے لیے آیا جس کے بعد انہوں نے ایک سفارتی تقریب میں شرکت بھی کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مودی کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور ہندوستان کو اپنی حکمت عملی پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا, گزشتہ جنگ پاکستان اور مودی کے درمیان تھی جس میں پاکستان متحد اور مودی عالمی سطح پر تنہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی حملہ دراصل چین کے معاشی عروج کو روکنے کی کوشش ہے لیکن اس کا سب سے بڑا معاشی نقصان پاکستان کو ہوا ہے، اب معاشی توازن یورپ سے ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے جو پورے خطے کے لیے خوش آئند ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مدارس اور علما کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک برصغیر میں علماء کی حکمرانی تھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، تعلیمی نظام میں دینی اور دنیاوی تقسیم انگریزوں کی سازش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پاکستان کی صدر ٹرمپ کو نوبل پرائز 2026 کے لئے نامزد کرنے کی سفارش
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں جاری قانون سازی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر شرعی اور خلاف آئین قوانین بنائے جا رہے ہیں اور معاشرے میں نکاح کے بجائے زنا بالرضا کو فروغ دیا جا رہا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔





