مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی پر نمایاں ہونے لگے، کاروباری ہفتے کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستانی معیشت پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت 75.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ برینٹ کروڈ آئل 78.78 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی گیس کی عالمی قیمت بھی بڑھ کر 3.90 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے یقینی پیدا کر رہی ہے۔ اگر تیل کی ترسیل میں خلل آیا تو قیمتوں میں مزید تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ ملکی معیشت کا بڑا انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے درآمدی بل میں اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس کا براہِ راست اثر عوامی زندگی پر پڑے گا۔
معاشی ماہرین حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ عالمی صورتحال کے تناظر میں ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پیشگی حکمت عملی تیار کرے تاکہ مقامی معیشت پر دباؤ کم سے کم ہو۔





