نئے بجٹ کا بوجھ بڑھ گیا، حکومت کا 36 ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے کا اعلان

نئے بجٹ کا بوجھ بڑھ گیا، حکومت کا 36 ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے کا اعلان

حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کی منظوری قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے معاشی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کے بعد دے دی۔

نجی ٹی وی چینل (سما)کے مطابق اجلاس میں کمیٹی ارکان اور حکومتی نمائندوں کے درمیان تند و تیز بحث ہوئی، جبکہ ایران-اسرائیل تنازع کے اثرات اور ممکنہ ایندھن بحران پر بھی غور کیا گیا۔

حکومتی معاشی ٹیم نے اجلاس کے دوران بتایا کہ مجوزہ اضافی ٹیکس کا فیصلہ تنخواہوں میں متوقع اضافے اور سولر پینلز پر ٹیکس میں نرمی کے بعد پیدا ہونے والے مالی خلاء کو پُر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

مجوزہ اقدامات اور ٹیکس تجاویز:
ہیچری انڈسٹری پر فی چوزہ 10 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی۔
ٹریژری بلز پر انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دی جائے گی۔
میوچل فنڈز کے ذریعے سرمایہ کاری پر ٹیکس 25 فیصد سے بڑھا کر 29 فیصد کر دیا جائے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ان تجاویز میں سے تین پر آئی ایم ایف سے اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ تین مزید تجاویز پر غور جاری ہے۔

الیکٹرک وہیکل پالیسی پر اختلاف
اجلاس میں ہائبرڈ گاڑیوں پر لیوی ٹیکس نہ لگانے کی سفارش بھی پیش کی گئی، تاہم وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کی شرائط کے برخلاف ہوگا، اس لیے فوری طور پر ممکن نہیں۔ کمیٹی ارکان نے لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا کر ہائبرڈ پر ریلیف دینے کی تجویز دی جس پر حکومتی ٹیم نے “’’غور کی یقین دہانی‘‘ کروائی۔

عالمی حالات اور سیاسی گرما گرمی
اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی خصوصاً ایران پر امریکی حملے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کے ممکنہ بحران پر تشویش ظاہر کی۔ وزیر مملکت نے جواب میں کہا کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی ہو رہی ہے اور اوگرا نے ملک میں مناسب تیل ذخائر کی تصدیق کی ہے۔

اجلاس کے دوران قائم مقام چیئرمین کمیٹی جاوید حنیف اور عمر ایوب کے درمیان بجٹ کے اعداد و شمار پر تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس نے ماحول کو کشیدہ کر دیا۔

Scroll to Top