وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 5 کروڑ روپے تک کے ٹیکس کیسز میں ایف بی آر عدالتی وارنٹ کے بغیر کسی کو گرفتار نہیں کر سکے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کے اختیارات کا ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے اور اب گرفتاری کا اختیار کسی ایک افسر کو نہیں بلکہ ایف بی آر کی تین رکنی کمیٹی کو حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کو سہولت دینے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے اہم اصلاحات کر رہی ہے، اور اس بجٹ میں مالیاتی نظم و ضبط کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ 75 سال سے زائد عمر کے افراد کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ 15 سال تک ذاتی رہائش پر ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لگے گا، اور حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے آمدن والوں پر صرف 1 فیصد انکم ٹیکس لاگو ہوگا۔ گریجویٹی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ نجی کاروبار کے لیے قرض تک رسائی آسان بنائی جا رہی ہے۔
ای کامرس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو ایک آسان نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے اور ٹیکس صرف محدود حد تک لگایا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت صنعتی ترقی کے لیے جلد نئی پالیسی متعارف کرائے گی، اور صرف انہی ڈیمز پر کام کیا جائے گا جو پہلے سے منظور شدہ ہیں، تاکہ ترقیاتی اخراجات کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔





