پشاور(شاہدجان) محکمہ تعلیم باجوڑ فی میل سیکشن میں پی ٹی سی ٹیچرز فنڈ میں فی میل ای ڈی او،ایس ڈی او خار،سینئر اکاونٹ کلرک،سی ٹی ٹیچر جو بطور اے ڈی او پی این ڈی کام کررہاہے کی مبینہ ملی بھگت سے 70 لاکھ 80 ہزار روپے کے بے قاعدگیوں کا انکشاف ہواہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم باجوڑ زنانہ نے 292 پی ٹی سی ٹیچرز کے 1870 مہینوں کی تنخواہوں کیلئے ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے 57 اعشاریہ 2 ملیں کی ڈیمانڈ کی تھی جس پر محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم نے47اعشاریہ 570 ملین رقم باقاعدہ طورپر جاری کی گئی۔

اس فنڈ سے ادائیگی کے وقت جعلی اساتذہ کو بغیرڈیوٹی کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے لسٹ میں شامل ہونے کا انکشاف ہوا اور اسی وقت اکاونٹ آفس نے جعلی خواتین اساتذہ کو 275 مہینوں کی تنخواہوں کی ادائیگی روک دی۔
معاملہ ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں لایاگیا جس پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ،ابتدائی تحقیقات کے دوران تصدیق ہوگئی کہ 292 اساتذہ کی لسٹ میں 67 جعلی اساتذہ کے نام شامل کئے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حیران کن طورپراس لسٹ میں ایک نام ایسا بھی شامل جو کہ 4 تحصیلوں کے 4 مختلف سکولوں میں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے ظاہر کیا گیاتھا جبکہ سکولوں میں ڈیوٹی کرنے والی23 ٹیچرز کے نام لسٹ سے نکال دیئے گئے تھے جس کو انکوائری کے موقع پر لسٹ میں دوبارہ شامل کیاگیا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آگئی کہ فی میل ای ڈی او،ایس ڈی او خار فی میل ،سینئر اکاونٹ کلرک،سی ٹی ٹیچر جو بطور اے ڈی او پی این ڈی کام کررہاہے نے مبینہ ملی بھگت سے 42 جعلی اساتذہ کو لسٹ میں شامل کرکے قومی خزانے کو 70 لاکھ 80 ہزار روپے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جو کہ اکاونٹ آفس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشکوک ادائیگی کو روک دیا۔
اکاؤنٹ آفس کی نشاندہی پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی انکوائری آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور ایک دو دن میں رپورٹ سامنے آنے کا امکان ہے۔

جب پی ٹی سی فنڈ سے بھرتی کی گئیں فی میل اساتذہ سکینڈل کے حوالے سے پختون ڈیجیٹل نے فی میل ای ڈی او سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا تو ان کا کہناتھا کہ ان کو چارچ سنبھالتے ہوئے 3 مہینے ہوگئےہیں اور انہوں نے جعلی اساتذہ کو غیر قانونی مشکوک ادائیگی کی نشاندہی کی ہے جس پر ادائیگی روک دی گئی ہے،انکوائری چل رہی ہے اور بہت جلد اس میں ملوث افراد کے نام سامنے آجائینگے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کا ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم
اس سکینڈل میں محکمہ تعلیم کے مختلف حکام ایک دوسرے پر ملوث ہونے کے الزامات لگارہے ہیں مگر اس سکینڈل کی انکوائری ابھی جاری ہے اور انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوجائے گا کہ پی ٹی سی فنڈ سے جعلی خواتین اساتذہ کی بھرتی اور ان کو ادائیگی میں کون کون ملوث ہے؟





