ایک سال کے دوران پشاور میں 250 راہزن ، سنیچرز اور 450 ڈرگ ڈیلرز گرفتار کیے ، ایس ایس پی اپریشنز مسعود بنگش

ایس ایس پی اپریشنز پشاور مسعود بنگش نے کہا کہ پشاور کی آبادی لگ بھگ پچاس لاکھ ہے جس کی وجہ سے سنیچنگ اور راہزنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پختون ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےمسعود بنگش نے کہا کہ پولیس کی بروقت کاوائیوں سے معاملات کافی حد تک سنبھل چکے ہیں تا ہم سٹریٹ کا مسئلہ بھرحال ایک غور طلب مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی بروقت کاروائیوں سے راہزنی کے واقعات میں 70 فیصد تک ریکوری بھی ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایس ایس پی اپریشنز نے کہا کہ ہمارے صوبے میں اسلحہ کلچر زیادہ بھی ہے اور پرانا بھی اور اسی لئے یہاں قتل مقاتلے کے کیسز بھی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہانہ 700 سے 800 تک اسلحہ لائسنسز ایشو ہوتے ہیں، ہر گھر میں اسلحہ ہوتا ہے،لوگوں میں انتقام کا جذبہ روایتی ہے،خاندانی دشمنیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے قتل مقاتلے کا تناسب زیادہ ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ڈکیتی میں نوجوان کے زیادہ ملوث ہونے کی کیا وجہ ہے؟ ایس ایس پی مسعود بنگش نے کہا کہ بے روزگاری، تفریح کے کم مواقع اور آئس کا نشہ بڑی وجوہات ہیں،نوجوانوں کے صحبت کا بھی اس میں بڑا عمل دخل ہے۔

ایس ایس پی اپریشنز پشاور نے کہا کہ کوئی بھی انسان پیدائشی کریمنل نہیں ہوتا بلکہ سوسائٹی اور صحبت کا اس میں بڑا کردار ہے۔

آئس کے ختم کرانے بارے انہوں نے کہا کہ بالکل اس لعنت کو ختم کرنا پولیس کی ذمہ واری ہے اور ہم نے صرف ایک سال میں پشاور میں 450 ڈرگ ڈیلرز گرفتار کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئس پشاور میں ملک کے دوسرے حصوں، سابقہ فاٹا اور بلوچستان سے بھی آتا ہے۔ ا

نہوں نے کہا کہ کمشنر پشاور نے ڈرگ کی روک تھام کے لیے بہترین کوششیں شروع کر رکھی ہیں اور زبردست کمپین چلا رہے ہیں جس کہ وجہ سے اب پشاور میں آپ کو راستوں اور چوکوں میں نشے کے شکار افراد کم ہی نظر آئیں گے۔

قبضہ مافیا بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے 65 قبضہ مافیا میں ملوث افراد کو گرفتار کیا ہے اور صوبے کے مختلف جیلوں میں بھیج دیے ہیں۔ پولیس کوششوں سے پشاور میں قبضہ مافیا میں 70 فیصد تک کمی آچکی ہے۔

ایس ایس پی اپریشنز مسعود بنگش نے کہا کہ پولیس تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے تا ہم ہماری ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ ہر جگہ ہماری ڈیوٹی ہوتی ہے۔ الیکشن ہو، محرم ہو، احتجاج ہو، جرائم سین ہو یا پھر احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات، ہر جگہ آپ کو پولیس نظر ہی آئے گی۔

عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کے فقدان کے تاثر بارے ایس ایس پی اپریشنز نے کہا کہ اس فاصلے کی کئی وجوہات ہیں۔ فریقین ہوتے ہیں، صحیح غلط ہوتے ہیں، تا ہم ہماری کوشش ہے کہ یہ فاصلہ کم ہو۔ ہم اس کے لیے مہمات بھی چلا رہے ہیں۔ عید کے بعد ہم نے اس بارے 20 میٹگز کیے ہیں۔ سی سی پی او صاحب کا بھی اس حوالے سے کردار بہت اہم ہے۔

پولیس کی قربانیوں بارے مسعود بنگش نے کہا کہ ہماری پولیس دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہے، پولیس نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ میں ہماری 4000 شہادتیں ہوئی ہیں، ہماری پولیس دن رات ڈیوٹی کرتی ہے، امن پولیس کے قربانیوں کی وجہ سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سوات: سمر جیپ ریلی اختتام پذیر،50سے زائد جیپیں شریک

سیف سٹی منصوبے بارے انہوں نے کہا کہ اس پر کام جاری ہے۔ چار پانچ جگہوں پر کا ہو رہا ہے۔ 700 کیمرے لگیں گے۔ ٹیکنیکل سٹاف کو ایٹا کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا۔

Scroll to Top