اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں منظور کر لیں، اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
عدالتی فیصلے کے نتیجے میں قومی و صوبائی اسمبلی کی 77 مخصوص نشستیں بحال کر دی گئی ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تعداد 25 ہے، جن میں 21 خواتین اور 4 اقلیتوں کی نشستیں شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستیں اب مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیریئنز کو ملیں گی۔
مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کے 7، 7 ارکان کی بنیاد پر دونوں جماعتوں کو 7، 7 مخصوص نشستیں دی جائیں گی۔
پیپلز پارٹی کو 4 ارکان کے بدلے 4 نشستیں، اے این پی کو 2 ارکان پر 1 نشست جبکہ پی ٹی آئی پارلیمنٹیریئنز کو 2 ارکان پر 1 نشست دی جائے گی۔
خواتین کی بچ جانے والی ایک نشست پر الیکشن کمیشن علیحدہ فیصلہ کرے گا، جبکہ اقلیتوں کی چار مخصوص نشستیں مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کو برابر تقسیم کی جائیں گی۔





