پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی کی مخصوص نشستوں سے محرومی کا ذمہ دار پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں فردوس شمیم نقوی اور شبلی فراز کو قرار دے دیا۔ ا نجی ٹی وی چینل (دنیا)کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے سنگین الزامات عائد کیے اور پارٹی کی موجودہ قیادت پر بھی سخت تنقید کی۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ شیرانی صاحب کی جماعت کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لیا جائے گا، لیکن پارٹی کے دو رہنماؤں نے سب کو بائی پاس کرتے ہوئے اس معاہدے کو مسترد کر دیا۔ ’’فردوس شمیم نقوی اور شبلی فراز نے پورے عمل کو ہائی جیک کیا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے محروم رہی،‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں سنی اتحاد کونسل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا، جس سے پی ٹی آئی کو قانونی طور پر بھی نقصان اٹھانا پڑا۔
پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے مروت کا کہنا تھا کہ’’پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ موجودہ قیادت نہ تو انقلاب لا سکتی ہے اور نہ ہی عوام کو متحرک کر سکتی ہے۔ اگر احتجاج کی قیادت مجھے دی جاتی تو میں عوام کو باہر نکال سکتا تھا۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے اندر ’’بزدلی‘‘ نے اس کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور آج یہ حالت ہو گئی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا کھونا بھی غیر اہم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے لیے اب کوئی واضح راستہ باقی نہیں بچا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو پی ٹی آئی سے کوئی حقیقی خطرہ نہیں، البتہ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد 18ویں ترمیم کے رول بیک ہونے کا امکان موجود ہے۔ اس موقع پر انہوں نے علیمہ خان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وہ قیادت کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گی، تو عوام کیسے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘‘





