خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے سانحہ سوات پر ایئر ایمبولینس کے عدم استعمال سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے وقت سوات میں موسم انتہائی خراب تھا، اور ایئر ایمبولینس کے استعمال سے بڑے جانی نقصان کا خدشہ تھا۔
اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ حکومت نے صورت حال کا بغور جائزہ لیا، اور محفوظ طریقے سے ریسکیو آپریشن کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سانحے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ دریا کنارے قائم تجاوزات کے خلاف بھی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفے کے مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا’’جو لوگ سوات واقعے پر استعفیٰ مانگ رہے ہیں، وہ تھرپارکر میں بھوک سے مرنے والے بچوں پر بلاول بھٹو سے اور مری میں برفباری میں جاں بحق سیاحوں پر مریم نواز سے بھی استعفیٰ طلب کریں۔‘‘
بیرسٹر سیف نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر مولانا فضل الرحمان کو طنزیہ مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم ان کی محنت کا نتیجہ ہے، جس کے بعد اس طرح کے فیصلے ممکن ہوئے ہیں۔





