سوات میں کئی سال پہلےخریدا گیا ارلی وارننگ سسٹم تاحال نصب نہ ہونے کا انکشاف

سوات میں کئی سال پہلےخریدا گیا ارلی وارننگ سسٹم تاحال نصب نہ ہونے کا انکشاف

خیبرپختونخوا میں ممکنہ قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے خریدے گئے ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب کئی سال گزرنے کے باوجود نہ ہوسکی، جس کا انکشاف صوبائی انسپکشن ٹیم کی جانب سے ہوا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) کے مطابق، سیکرٹری صوبائی انسپکشن ٹیم نے اس معاملے پر محکمہ آبپاشی کے سیکرٹری کو خط لکھتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ 2010 میں خریدے گئے اس نظام کو اب تک کیوں نصب نہیں کیا گیا۔

انسپکشن ٹیم نے ہدایت کی ہے کہ سسٹم کی موجودہ حالت اور اس کی تنصیب میں تاخیر کی وجوہات سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

جوابی خط میں محکمہ آبپاشی کے پلاننگ و مانیٹرنگ سیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2013 میں وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم دور دراز علاقوں میں ہنگامی رابطے اور بہتر مواصلاتی نظام کے لیے خریدا گیا تھا، تاہم تکنیکی اور سکیورٹی خدشات کے باعث اس کی تنصیب ممکن نہ ہو سکی۔

محکمہ نے انکشاف کیا کہ متعلقہ اعلیٰ حکام کو اس صورتحال سے بروقت آگاہ کیا گیا تھا، لیکن سکیورٹی پروٹوکول کے تحت تنصیب کی اجازت نہیں دی گئی۔ خط میں مزید بتایا گیا کہ سسٹم کا تمام سامان اب بھی ایریگیشن ڈویژن سوات میں محفوظ حالت میں موجود ہے۔

محکمہ آبپاشی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فونز اور جدید کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے وائرلیس سسٹم کی افادیت کم ہو چکی ہے، اس لیے منصوبے کی افادیت پر ازسر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، اور ماہرین پہلے ہی وقت پر وارننگ سسٹمز کی تنصیب پر زور دے چکے ہیں۔ اس حوالے سے حکومتی خاموشی اور بدانتظامی پر شدید تنقید متوقع ہے۔

Scroll to Top