(کامران علی شاہ )پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹس سزاوں کے خلاف کیس تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت اور سیکرٹری دفاع کو نوٹسز جاری کر دیئے۔
9، 10 مئی توڑپھوڑ میں ملٹری کورٹ سےسزایافتہ ملزمان کی سزاؤں کےخلاف درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ نے 6 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومت، سیکریٹری دفاع اوردیگر کو نوٹس جاری کردیا۔ حکم نامے میں فریقین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ درخواست گزاروں کو ملٹری کورٹ کے فیصلوں اور کارروائی کا ریکارڈ فراہم کریں۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کو ملٹری کورٹ کے فیصلوں اور عدالتی کارروائی کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا،درخواست گزاروں کے مطابق انہیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔
درخواست گزاروں کے وکلاء کے مطابق 9 اور10 مئی کو توڑپھوڑ میں ملٹری کورٹ نے13 ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں جن میں سے9 کا تعلق بنوں،2چکدرہ اور2 کا تعلق دیرلوئر بلامبٹ سےہے، ملٹری کورٹ نےدرخواست گزاروں کو10،4 اور 2 سال کی سزائیں سنائی ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ درخواست گزار براہ راست مقدمات میں نامزد نہیں ہیں بعد میں ان کو شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ
ریکارڈ کے حوالے درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ سزا کے بعد ملزمان کو فیصلوں کی کاپیاں فراہم کی جاتی ہیں لیکن ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں،سپریم کورٹ نے سویلین کا ملٹری کورٹ ٹرائل کو قانونی قرار دیا،سپریم کورٹ نے ملزمان کو اپیل کا حق بھی دینا ضروری قرار دیا ہے،ملزمان کو اپیل کےلئے کوئی فورم نہیں دیا گیا،درخواست گزاروں نےآئینی حق استعمال کرتے ہوئےہائیکورٹ سےرجوع کیا۔





