تین صوبے بدامنی کی لپیٹ میں، حکمران مزے لوٹنے اور جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں،مولانا فضل الرحمان

(کامران علی شاہ )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےکہا ہے کہ باجوڑ میں نوجوان کی شہادت افسوسناک ہے، ٹانک اور وزیرستان میں روزانہ کے واقعات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں ڈاکو راج قائم ہے اور تینوں صوبے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں جبکہ حکمران صرف مزے لوٹنے اور جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ اثر غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ ملک میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

مولانا نے دعویٰ کیا کہ 2007 میں امن و امان بہتر تھا، چترال سے وزیرستان تک کوئی پولیس چوکی نہیں تھی جبکہ آج عام آدمی کی زندگی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔

فاٹا انضمام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں اس “گنگا” میں بہہ گئیں کہ انضمام پاکستان کے مفاد میں ہے۔

مولانا کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں بصیرت کا فقدان ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام نے دور اندیشی کا مظاہرہ کیا،مرجر کے وقت ان کے ساتھ آئینی دفعات پر نظرثانی کا وعدہ کیا گیا تھا مگر عمل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں نہ کوئی بندوبستی نظام ہے، نہ قانون گو، نہ ہی پٹواری،آٹھ سال گزر چکے لیکن بنیادی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا گیا، عدالتوں میں صرف فوجداری اور دیوانی مقدمات آتے ہیں، قبائلی علاقوں کے پیچیدہ مسائل کا کوئی حل نہیں نکالا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ قبائلی گرینڈ جرگہ کل دوبارہ منعقد ہوگا جس میں 4 ہزار قبائلی شریک ہوں گے۔ ان تمام افراد نے دستخط کر کے جرگے کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کا عہد کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ انضمام قبائل کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ سیاسی خودمختاری کا مطالبہ تھا، اس لیے قبائل کو اختیار دیا جائے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ صوبے میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ملٹری کورٹ سزاؤں کے خلاف پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ،وفاقی وصوبائی حکومت سمیت سیکرٹری دفاع کو نوٹسزجاری

انضمام کمیٹی کے حوالے سے مولانا نے کہا کہ ابھی تک ہم نے اپنا نمائندہ نہیں دیا، اور سوال اٹھایا کہ پختونوں کی نمائندگی کمیٹی میں کس حد تک موجود ہے۔

Scroll to Top