جلسے کی اجازت دیں، شکریہ کے ساتھ تحفہ بھی دوں گا، علی امین گنڈاپور کا پنجاب حکومت کو پیغام

جلسے کی اجازت دیں، شکریہ کے ساتھ تحفہ بھی دوں گا، علی امین گنڈاپور کا پنجاب حکومت کو پیغام

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پنجاب حکومت انہیں جلسہ کرنے کی اجازت دیتی ہے تو وہ صرف شکریہ ادا نہیں کریں گے بلکہ ایک ’’تحفہ‘‘بھی دیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر مولانا فضل الرحمان اور پنجاب حکومت دونوں پر سخت تنقید کی۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی معطلی غیر آئینی اقدام ہے اور اگر ایسی ہی روش برقرار رہی تو خیبرپختونخوا میں بھی جوابی کارروائی کی جائے گی۔’’اگر یہی کرنا ہے تو کے پی سے ان کے چیئرمینز کو فارغ کر دوں گا۔‘‘

مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مولانا کا ایک ایم این اے اور دو ایم پی اے میرٹ پر منتخب ہوئے، باقی تمام افراد ٖ’’فارم 47 کی پیداوار‘‘ ہیں۔

’’مولانا فضل الرحمان خود جعلی مینڈیٹ پر ہیں اور ہمیں لیکچر دے رہے ہیں، عوام نے انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔‘‘

علی امین نے مولانا کو مشورہ دیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی لانے کے دعوے کرنے سے قبل خود کو تبدیل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے عوام کو گمراہ کیا، اسی لیے اپنے حلقے سے شکست کھا گئے۔

’’میں پنجاب حکومت کا اس وقت شکریہ ادا کروں گا جب وہ ہمیں لاہور میں آئینی حق کے تحت جلسہ کرنے دیں گے۔ اگر اجازت ملی تو صرف شکریہ نہیں، بلکہ تحفہ بھی دوں گا۔‘‘

واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور حالیہ دنوں میں مسلسل جارحانہ سیاسی موقف اپنائے ہوئے ہیں اور پنجاب میں تحریک انصاف کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔

Scroll to Top