وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ای او بی آئی پنشن میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں ایمپلائی اولڈ ایج بینیفٹس ادارے (ای او بی آئی) کے پنشنرز کے لیے 15 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی جو یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔

یہ فیصلہ وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی سفارش پر کیا گیا اور اضافے کے لیے مالی وسائل ای او بی آئی اپنے ذرائع سے فراہم کرے گا۔

اجلاس میں ای او بی آئی میں ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرانے کے لیے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی گئی۔

یہ کمیٹی غیر رسمی شعبۂ محنت، جیسے گھریلو ملازمین، زرعی مزدوروں اور دیگر پسماندہ طبقات کو پنشن کی سہولت میں شامل کرنے سے متعلق تجاویز پر غور کرے گی تاکہ انہیں بھی ان کے جائز حقوق فراہم کیے جا سکیں۔

کابینہ نے وزارتِ بحری امور کی سفارش پر سی کیریج شپنگ ڈاکومنٹس بل 2025 سے متعلق قانونی کارروائی شروع کرنے کی بھی منظوری دی جس کا مقصد بحری تجارتی عمل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔

اجلاس میں وزارتِ قومی صحت کی سفارش پر کینسر، امراضِ قلب اور دیگر زندگی بچانے والی اہم ادویات کی درآمد پر پانچ سالہ ٹیکس استثنیٰ کی مدت میں توسیع کر دی گئی۔

یہ استثنیٰ صرف اسپتالوں اور مجاز طبی اداروں کو حاصل ہوگا اور ان ادویات کی عام مارکیٹ میں فروخت پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ ان ادویات کی درآمد کے لیے متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹی سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کابینہ نے 2 اور 3 جولائی 2025 کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنے پر تمام صوبائی حکومتوں، وفاقی اداروں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کی کوششوں کو سراہا۔وزیرِاعظم نے مون سون سیزن کے تناظر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔

انہوں نے این ڈی ایم اے کی تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے ادارے نے بروقت اقدامات کیے۔

وزیرِاعظم نے سوات میں شدید بارشوں کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے حالیہ مثبت معاشی اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت کی کارکردگی اور خدمت پر مبنی پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ہر دو ماہ بعد تمام وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بہتر کام کرنے والی وزارتوں کو سراہا جائے گا جبکہ ناقص کارکردگی دکھانے والوں سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی

اجلاس کے دوران وزیرِاعظم نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال پر بھی تعریف کی۔

Scroll to Top