عوامی نیشنل پارٹی کے ضلع باجوڑ سے منتخب رکن خیبرپختونخوا اسمبلی نثار باز نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں جاری سیاسی گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اے این پی سے کوئی باضابطہ رابطہ کیا گیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں نثار باز نے کہا کہ اے این پی اس وقت باجوڑ کے سانحے کے غم میں ڈوبی ہوئی ہے جہاں جماعت کے سینئر رہنما مولانا خانزیب کی شہادت کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی اس وقت سانحے کے خلاف جرگوں، امن مارچ اور عوامی رابطہ مہم کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے شہداء کے قاتل تاحال گرفتار نہیں کیے جا سکے۔
نثار باز کا کہنا تھا کہ اے این پی کا بنیادی مشن پختونخوا وطن میں امن، وسائل پر اختیار اور قبائلی عوام کے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد ہے، لیکن بدقسمتی سے صوبے کے اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے حکمران و اپوزیشن سینیٹ کی نشستوں پر سودے بازی میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف باجوڑ سے وزیرستان تک بدامنی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ، گورنر اور اپوزیشن لیڈر سمیت مخصوص جماعتیں سینیٹ کی بارگیننگ میں مصروف ہیں،افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں کو عوامی مسائل کا حل نکالنا چاہیے، وہ ذاتی مفادات اوراے ٹی ایمز کی سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں۔
نثار باز نے نشاندہی کی کہ موجودہ سینیٹ گٹھ جوڑ میں تمام اپوزیشن شامل نہیں بلکہ صرف پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، اور جمعیت علمائے اسلام (ف) اس کھیل کا حصہ ہیں جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ جماعتیں سینیٹ کی نشستوں کے لیے ایک میز پر بیٹھ سکتی ہیں تو پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی، عوامی مسائل اور آئینی حقوق کے لیے مل بیٹھنے سے گریز کیوں ہے؟ یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا یہ اتحاد صرف ذاتی مفاد کے لیے ہے یا مقتدر حلقوں کی ایما پر بنایا گیا ہے۔





