اپوزیشن فارمولے پر عمل نہ ہوا تو 6 سے 7 سینیٹر منتخب کرائیں گے، گورنر خیبرپختونخوا

اپوزیشن فارمولے پر عمل نہ ہوا تو 6 سے 7 سینیٹر منتخب کرائیں گے، گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری کے بعد گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف پر آئین و قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسمبلی اجلاس میں کورم کی نشاندہی کرکے ایک نئی کہانی شروع کی حالانکہ روایت کے مطابق حلف ایجنڈے کے تحت لیا جاتا ہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف آئین کی خلاف ورزی خود کرتی ہے اور پھر یہ شکایت کرتی ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، آج جو انہوں نے کیا ہے کل وہی ان کے ساتھ ہوگا تو روئیں گے۔

گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 30 سے 35 آزاد ارکان موجود ہیں جن سے بات چیت جاری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل نہ ہوا تو ان کی کوشش ہوگی کہ چھ سے سات سینیٹر منتخب کرائیں۔ ان کے مطابق، آزاد حیثیت سے سینیٹ کے امیدواروں کو ساتھ ملا کر زیادہ نشستیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو فارمولہ دیا تھا اسے تسلیم کرنا اچھی بات ہے اور لیڈر آف دی ہاؤس ہمیں بریفنگ دیں گے جس کے بعد ہم اپنا اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔

گورنر نے مزید کہا کہ ہم نے اپوزیشن لیڈر کو پورا اختیار دیا سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پانچ نشستوں پر الیکشن لڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ماضی میں چاروں صوبوں میں بلامقابلہ سینیٹ انتخابات کروائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور موجودہ چیئرمین خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ان کے ایم پی ایز ان کے کنٹرول میں نہیں اور سینیٹ کے امیدوار بھی قابو میں نہیں آ رہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا مخصوص نشستوں کی حلف برداری عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ حلف برداری کو غلط سمجھتے ہیں تو عدالت میں چیلنج کریں۔

Scroll to Top