پشاور ہائیکورٹ کا چترال این اے 1 پر ضمنی انتخاب روکنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے چترال کے حلقہ این اے 1 پر ضمنی انتخاب روک کر الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔

چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 1 سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی عبدالطیف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل بینچ نے کی۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ جب تک اس درخواست پر فیصلہ نہیں آ جاتا چترال این اے-1 کی نشست پر ضمنی الیکشن کا انعقاد نہ کیا جائے، عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزار کے وکیل معظم بٹ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل این اے 1 چترال سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے بغیر کسی نوٹس کے نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا۔

ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے ان کے موکل کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے لہٰذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

معظم بٹ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے بغیر شنوائی اور قانونی تقاضے پورے کیے درخواست گزار کو نااہل قرار دے دیا اور نشست کو خالی قرار دے کر ضمنی الیکشن کا اعلان کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ، سلمان اکرم راجہ کو 19 اگست تک حفاظتی ضمانت، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

وکیل کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ درخواست گزار کی غیر موجودگی میں سنایا گیا اور اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی جا چکی ہے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔

Scroll to Top