غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں نہ صرف بمباری سے فلسطینی شہدا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے بھی اموات کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کی بمباری میں آج مزید 36 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں 13 امداد کی تلاش میں شامل افراد بھی شامل ہیں، غزہ میں قحط اور شدید غذائی قلت کے باعث بچے سمیت مزید 17 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق بھوک سے ہونے والی اموات کی تعداد 169 ہو چکی ہے جن میں 93 بچے بھی شامل ہیں، اسرائیل کی جنگ میں اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 60 ہزار 430 تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 48 ہزار 722 ہو گئی ہے۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہر تین میں سے ایک فلسطینی کئی کئی دن بھوکا رہنے پر مجبور ہے، قحط کی موجودہ صورتحال نے بچوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے جہاں 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔
بھوک سے اموات کی تعداد 162 ہو چکی ہے جن میں 92 بچے شامل ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ آج کے فیصلے ہزاروں بچوں کی زندگی یا موت کا تعین کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے فلسطین تسلیم کرنے والے یورپی ممالک کے اقدامات کو غیر متعلقہ قرار دے دیا
7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والوں میں 18 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں، یونیسف نے غزہ کے بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت مستقل جنگ بندی کی قرار دیا ہے تاکہ وہ فاقوں اور بمباری کی تباہ کاریوں سے بچ سکیں۔





