تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے انکشاف کیا ہے کہ رانا ثناء اللّٰہ کے خلاف مقدمہ غلط بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا، اور سیاسی انتقام کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے خود کابینہ میں اس کیس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
قومی اخبار(روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق اسد قیصر نے واضح کیا کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، مگر ہمارا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہو گا۔ اسلام آباد آنے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں، تاہم 5 اگست سے ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ ملک میں عدلیہ اور پارلیمنٹ آزاد ہوں، اور تمام ادارے آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، اور بانی پی ٹی آئی کے تمام کیسز میں انہیں قانونی طور پر ضمانت ملنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے نواز شریف کے خلاف مقدمات قائم کیے تھے، اور ہم کسی کے خلاف سیاسی انتقام کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ اس لیے کیا گیا تاکہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر شفاف تحقیقات ہوں۔
اسد قیصر نے موجودہ سیاسی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام میں مسلم لیگ (ن) اب عملاً غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ پارٹیوں میں دھڑے بندی صرف تحریکِ انصاف میں نہیں، یہ مسئلہ ہر جماعت میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے بیٹے پاکستان آ رہے ہیں، والد سے ملاقات کریں گے، اور جو ہدایت بانی پی ٹی آئی دیں گے، اسی پر عمل ہو گا۔ مشال یوسفزئی کو پارٹی ٹکٹ بانی کی منظوری سے دیا گیا ہے۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قوت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ وہ بااختیار ہو۔ حکومت کی جانب سے فی الحال مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مکمل اختیار دیا جائے تاکہ وہ شفاف انتخابات کرا سکے اور حقیقی عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں۔
عرفان صدیقی کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم کو خود فون کر کے آگاہ کیا تھا، جس پر وزیرِ اعظم نے حیرانی کا اظہار کیا کہ انہیں اس گرفتاری کا علم ہی نہیں تھا۔
سابق اسپیکر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں نہ صرف ڈرون حملے رکے، بلکہ افغانستان کے ساتھ تجارتی کوریڈور بھی کھولا گیا، اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر تھی۔





