لاپتہ افراد کیس،پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا

پشاور ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں سے جواب اور تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

جسٹس ارشد علی کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں آٹھ لاپتہ افراد سے متعلق دائر درخواستوں پر غور کیا گیا۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، پولیس کے فوکل پرسن اور وزارت داخلہ کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ لاپتہ افراد کے بارے میں مکمل رپورٹس جلد عدالت میں جمع کرائیں تاکہ معاملات کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جانس خان کیس سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس مقدمے میں غلط طور پر گائیڈ کیا گیا، کیونکہ جانس خان لاپتہ نہیں تھے بلکہ قید میں موجود تھے اور بعد ازاں ضمانت پر رہا بھی ہو چکے ہیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد جانس خان کی گمشدگی کی درخواست خارج کر دی، تاہم باقی سات کیسز میں کارروائی جاری رکھتے ہوئے متعلقہ فریقین سے تحریری جواب طلب کر لیا گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی اقدامات متوقع ہیں۔

Scroll to Top