5 اگست کو پی ٹی آئی کا احتجاج ،آپ نکلیں، کیا ہوتا ہے بعد میں دیکھیں گے،علی امین گنڈا پور کا دوٹوک پیغام سامنے آگیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں اہم پیغام جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’آپ نکلیں، کیا ہوتا ہے، وہ بعد میں دیکھیں گے‘‘ یہ آزادی کی تحریک ہے، جس میں شرکت نہ کرنے والا دراصل غلامی کو تسلیم کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (آج نیوز )کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں گنڈاپور نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی جائے گی، جو حیات آباد ٹول پلازہ سے شروع ہو کر رنگ روڈ کے ذریعے قلعہ بالا حصار پر اختتام پذیر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس ریلی کی قیادت کریں گے۔

’’یہ تحریک عمران خان کی رہائی تک جاری رہے گی‘‘
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 5 اگست ہماری تحریک آزادی کے عروج کا دن ہو گا۔ ’’ہر گاؤں، ہر ضلع اور ہر گھر سے لوگ باہر نکلیں، یہ وقت عمل کا ہے، خاموشی کا نہیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ جب تک عمران خان رہا نہیں ہوتے اور قوم کو حقیقی آزادی نہیں ملتی، یہ تحریک جاری رہے گی۔

’’جو نہیں نکلے گا، وہ غلامی قبول کرے گا‘‘
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’’جو اس احتجاج کا حصہ نہیں بنے گا، وہ نہ صرف خود غلام رہے گا بلکہ دوسروں کو بھی غلام بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ آزادی کبھی گھر بیٹھے نہیں ملتی، اس کے لیے سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔‘‘

’’مافیا اور فسطائیت کے شکنجے توڑنے کا وقت آ گیا ہے‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’ملک میں مافیا نے فسطائیت قائم کر رکھی ہے، اور ہمیں غلام بنا رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام جب تک سڑکوں پر نہیں نکلیں گے، تب تک عمران خان کو رہا نہیں کیا جائے گا۔‘‘

’’دنیا کو بتانا ہے ہم عمران خان کے ساتھ ہیں‘‘
انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو پوری دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ’’ہم عمران خان کے ساتھ تھے، ہیں اور انشاءاللّٰہ کھڑے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے ریلی کو پرامن، منظم اور تاریخی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج صرف ریلی نہیں بلکہ ایک قومی عزم کا اظہار ہو گا۔

Scroll to Top