وفاقی وزارت داخلہ نے افغان مہاجرین کے حوالے سے ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہولڈرز کی وطن واپسی کے حوالے سے واضح حکمت عملی کا اعلان کیا گیا ہے۔
فیصلے کے تحت پی او آر ہولڈرز کی رضاکارانہ واپسی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا جبکہ باقی افراد کی واپسی کا باقاعدہ عمل یکم ستمبر سے شروع ہوگا۔
یہ فیصلہ ملک میں سیکیورٹی چیلنجز اور دستیاب وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا ہے۔
واپسی کا عمل پہلے سے جاری انٹرنیشنل فرینڈلی ریپٹرول پروگرام (آئی ایف آر پی) کے مطابق جاری رکھا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وزارت داخلہ وزارت خارجہ، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)، افغان عبوری حکومت اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو منظم اور ہموار بنائے گی۔
مزید برآں، وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پی او آر ہولڈرز کا مکمل ڈیٹا صوبائی و ضلعی کمیٹیوں کو فراہم کریں تاکہ ان کی وطن واپسی کا مناسب بندوبست کیا جا سکے۔
نادرا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بارڈر ٹرمینلز اور ٹرانزٹ ایریاز پر واپس جانے والے افغان باشندوں کی رجسٹریشن ختم کرنے کے تمام انتظامات کرے، جبکہ ایف آئی اے کو نامزد بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر وطن واپسی کے عمل کو سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ پی او آر کارڈ ہولڈرز کی تفصیلی میپنگ کریں اور وطن واپسی کے لیے ایک مربوط منصوبہ بندی وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کریں۔
جلاوطن افراد کے لیے ٹرانزٹ ایریاز کا تعین، ان کی نقل و حمل اور مالی معاونت کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں، ضلعی و صوبائی سطح پر کمیٹیاں قائم کرنے، کنٹرول رومز کو فعال کرنے اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہاٹ لائن اورشکایتی سیل بھی قائم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ میں مفت تعلیم حاصل کرنے کا شاندار موقع،اسکالرشپ پروگرام کیلئے درخواستوں کا آغاز
وزارت داخلہ نے وطن واپسی کے روزانہ کی پیشرفت کی نگرانی کے لیے فارن نیشنل سیکیورٹی ڈیش بورڈ (FNSD) کو ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فوکل پرسنز کی تازہ ترین معلومات وزارت داخلہ کے ساتھ فوری طور پر شیئر کریں۔ رابطہ کاری کے لیے سیکشن آفیسر سیکیورٹی کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔





