ایک انسان نما روبوٹ نے ٹیکنالوجی کی دنیا کو حیران کر دیا ہے جب اس نے 90 فیصد سے زیادہ درستگی کے ساتھ پیچیدہ ڈرم پرفارمنس سرانجام دیں۔
روبوٹ کو عام طریقے سے پروگرام نہیں کیا گیا بلکہ اسے سیکھنے کے ایک خاص طریقے سے تربیت دی گئی ہے جس سے وہ خود سے چیزیں سیکھ کر بہتر کارکردگی دکھاتا ہے، یہ طریقہ روبوٹ کی تخلیقی صلاحیت اور جسمانی ہم آہنگی کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
روبوٹ نے ڈرم بجانے میں انسانوں جیسے انداز اپنائے جیسے ڈنڈے بدلنا اور بازو کراس کر کے بجانا، یہ خاص روبوٹ سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے ماہرین نے مل کر تیار کیا ہے
اس روبوٹ کو عام طریقے سے ہدایات دے کر نہیں چلایا گیا بلکہ اسے خود سیکھنے کا طریقہ اختیار کر کے تربیت دی گئی ہے، یہ طریقہ روبوٹ کی تخلیقی صلاحیت اور جسمانی ہم آہنگی کے لحاظ سے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
روبوٹ کو سیدھی ہدایات دینے کی بجائے ماہرین نے ڈرم بجانے کے انداز کو ایک خاص طریقے سے ترتیب دیا جس میں بتایا گیا کہ کب اور کیسے ڈنڈے ڈرم سے ٹکرانے چاہییں، پھر روبوٹ کو مختلف قسم کی موسیقی، جیسے راک، میٹل اور جَیَز کے 30 سے زیادہ گانوں پر تربیت دی گئی۔
اس دوران روبوٹ نے نہ صرف صحیح وقت پر ڈرم بجانا سیکھا بلکہ خود سے انداز بھی اپنانے لگا جیسے ڈنڈے بدل کر بجانا یا اپنے انداز سے ضربوں کا طریقہ بنانا۔
ڈرم بجانا ایک ایسی مہارت ہے جس میں بہت زیادہ دھیان، جسم کی حرکت کا توازن اور موسیقی کو سمجھنے کی صلاحیت چاہیے ہوتی ہے، اگر ایک روبوٹ یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب تفریح اور سیکھنے کے لیے نئے راستے کھل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسان یا مشین؟ چین میں 2025 کے روبوٹس دیکھ کر آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے
روبوٹ نہ صرف طالب علموں کو موسیقی سکھا سکتا ہے بلکہ دنیا بھر میں اسٹیج پر پرفارم بھی کر سکتا ہے، اب ایسا روبوٹ صرف کہانیوں یا فلموں کی بات نہیں رہا۔





