14اگست اور دوسرے قومی دنوں پر پی ٹی آئی کا پر تشدد احتجاج معمول بن گیا، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 14 اگست اور دیگر قومی ایام کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پرتشدد احتجاج ایک معمول بنتا جا رہا ہے، جو قومی یکجہتی اور سلامتی کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘(سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ایک فرد ہر قومی تہوار اور اہم موقع پر ریاست کے بجائے اپنی سیاسی جماعت کو ترجیح دیتا ہے، اور پی ٹی آئی کے رویے نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ریاستی اداروں اور سلامتی کے معاملات پر کبھی سنجیدہ نہیں رہی۔

نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی نیوز)کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی کھل کر کبھی مذمت نہیں کی۔ ’’اسد قیصر جیسے رہنماؤں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دیں گے، جو ایک سنگین طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔

خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران وہ مسلسل حکومت پر مودی کے ساتھ مبینہ ساز باز کے الزامات لگاتی رہیں، جب کہ اسی دوران فوج کے 700 سے زائد جوان ملک پر قربان ہو چکے ہیں۔

’’افسوس کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے ان شہداء کے لیے تعزیتی بیان دینا بھی مناسب نہیں سمجھا، نہ ہی کسی نے شہداء کے لواحقین سے جا کر اظہارِ افسوس کیا، بلکہ اس کے برعکس مخالفانہ بیانات سامنے آتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی فرد، لیڈر یا جماعت ریاست پاکستان سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ ’’اول اور آخر پاکستان ہے، اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔‘‘

Scroll to Top