پاکستان میں پہلی بار سرکاری سطح پر خواتین کی ایک بڑی ٹیم نے ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی تریچ میرکے ایڈوانس بیس کیمپ تک کامیاب ٹریکنگ مکمل کر لی۔
ترجمان ٹورازم اتھارٹی محمد سعد کے مطابق 17 خواتین ٹریکرز پر مشتمل اس ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی راستوں، برفانی گلیشیئرز اور بلند و بالا وادیوں کو عبور کرتے ہوئے کامیابی سے ٹریک مکمل کیا۔
خواتین ٹریکرز میں ایک کیلاشی، دو چترالی، ایک بلوچستان، چار گلگت بلتستان جبکہ باقی مختلف صوبوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ ٹیم کو ٹریکنگ کے دوران 36 مقامی پورٹرز اور 3 مقامی گائیڈز کی مدد حاصل رہی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر ٹریکرز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں۔
مہم کے دوران ایک تاریخی واقعہ بھی پیش آیا جب مقامی گائیڈ کے چھ سالہ بیٹے شیزمیر نے بھی کامیابی سے بیس کیمپ تک ٹریک مکمل کیا اور ایک منفرد ریکارڈ قائم کر دیا۔
ٹریکر ماریہ نے حکومتی سپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل ترین ٹریک تھا لیکن سہولیات کی بدولت ہم اسے مکمل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ٹریکر مشال نے کہا کہ میں اپنی صوبے کی پہلی خاتون ہوں جس نے قومی سطح پر اس ٹریک میں کامیابی حاصل کی، یہ ایک ایڈونچر سے بھرپور اور یادگار تجربہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
تریچ میر پاکستان کی تیسری اور ہندوکش پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ہے جس کی بلندی 7708 میٹر ہے، اس اہم اور منفرد ٹریک کی کامیاب تکمیل نہ صرف خواتین کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کی ایک نئی راہ بھی ہموار کر رہی ہے۔





