امریکی جریدے ’’اسٹریٹجک آؤٹ لک‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مستقل مزاجی، حکمت عملی اور پُرسکون قیادت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں پاکستان کے بارے میں واشنگٹن کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق، دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی مؤثر حکمت عملی اور قیادت نے ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کی اہمیت کا دوبارہ احساس دلایا، جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پاک-بھارت جنگ بندی پر جارحانہ ردعمل نے امریکی صدر کو ناخوش کیا۔
اخبار کے مطابق، بھارتی طیارے گرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے مودی کے عزائم کو نقصان پہنچایا اور واشنگٹن نے بھارت کے بجائے پاکستان کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ اس تناظر میں جنرل عاصم منیر کی سنجیدہ، تحمل مزاج اور پیشہ ور قیادت کو وائٹ ہاؤس میں سراہا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مودی کی متوقع امریکہ یاترا منسوخ ہو گئی، جب کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر لنچ پر مدعو کیا—جو کسی بھی ملک کے عسکری رہنما کے لیے ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ تصور کیا جاتا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ امریکا کی جانب سے (بی ایل اے) کو دہشت گرد قرار دینا اور بھارت کو پاکستان میں مداخلت سے باز رہنے کا پیغام دینا، اس پالیسی شفٹ کا حصہ ہے جس میں پاکستان کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





