تاریخ میں اتنی تیزی سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کام نہیں ہوا جتنا ہم نے کیا،علی امین گنڈا پور

شیراز احمد شیرازی

اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں سے صوبے کے کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے، جن میں بنیر، شانگلہ، صوابی اور سوات سرفہرست ہیں۔ ان علاقوں میں 12 سے 14 فٹ تک کے سیلابی ریلے آئے جنہوں نے کئی گھروں کو زمین بوس کر دیا۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہمارے تمام ادارے متحرک ہوئے اور 24 گھنٹوں کے اندر اندر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا۔ اب تک تمام شہداء کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 490 افراد خیبرپختونخوا میں سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے دیے جا چکے ہیں، جب کہ مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 10 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو بھی امدادی رقوم دی جا رہی ہیں، تاہم چیک بُکس کم پڑ جانے کی وجہ سے 100 فیصد زخمیوں کو رقم کی ادائیگی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ اب تک 50 فیصد زخمیوں کو رقوم فراہم کی جا چکی ہیں۔

علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ سرکاری املاک کی بحالی پر بھی کام جاری ہے اور تاریخ میں پہلی بار اتنی تیزی سے متاثرین کی مدد اور بحالی کا کام کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت ڈیمز بنائے گئے ہوتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔ “بدقسمتی سے ہم نے ماضی میں کچھ نہیں کیا،” انہوں نے اعتراف کیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کا تجربہ، خاص طور پر ڈیرہ اسماعیل خان میں، ہمارے لیے سبق آموز تھا اور اب ہم نے کچھ نئے ڈیمز پر کام شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ روپے میں کسی کا گھر مکمل تعمیر نہیں ہو سکتا، لیکن یہ ایک معاونت ہے تاکہ متاثرہ افراد جلد بحالی کی طرف لوٹ سکیں۔

Scroll to Top