پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے کے واقعے سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔
پختون ڈٰیجیٹل کے سینئر صحافی شیراز احمد شیرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈہ پھینکنے والی خواتین کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہی ہے۔
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اور آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کے اراکین اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے راولپنڈی آئے تھے۔
احتجاج کے دوران جب چند خواتین نے علیمہ خان سے سوالات کیے تو ان کے مبینہ طور پر جواب نہ دینے پر ایک خاتون نے انڈہ پھینک دیا۔
ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ انڈہ پھینکنے والی خواتین کو موقع پر ہی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق ان خواتین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی ہے اور پولیس کی بروقت مداخلت سے صورتحال مزید بگڑنے سے بچ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے فوراً بعد موقع پر موجود کارکنان نے انڈہ پھینکنے والی خواتین کو گھیر لیا تھا تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے خواتین کو بحفاظت تھانے منتقل کر دیا۔
اس حوالے سے صحافی شیراز احمد شیرانی نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے
انہوں نے کہا کہ چلو مان لیتے ہیں یہ انڈہ خیبرپختونخوا کی خواتین نے مارا، مگر سوال یہ ہے کہ خواتین کے پاس انڈہ آیا کہاں سے؟ پولیس کلیریفیکیشن کیوں دے رہی ہے؟ اور خواتین کا بیان ابھی تک ریکارڈ کیوں نہیں کیا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کو میڈیا گفتگو کے دوران خاتون نے انڈہ مار دیا
فی الحال پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں، واقعے میں ملوث خواتین کے بیانات کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ معاملے کی اصل حقیقت سامنے آ سکے۔





