اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک جذباتی اور پُرجوش تقریر میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی اور عالمی برادری سے انصاف کا پُرزور مطالبہ کیا۔
قومی اخبار (روزنامہ پاکستان ویب سائٹ)کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہر سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید سیلابوں، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ’’ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم ان نقصانات کے ازالے کے لیے مزید قرضے لیں، یہ کسی صورت انصاف نہیں ہے!‘‘
انہوں نے کہا’’آپ کسی ترقی پذیر ملک سے، جو پہلے ہی قدرتی آفات سے نبردآزما ہے، یہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے؟‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف نے جذبے سے لبریز انداز میں ڈائس پر مکّے مار کر اپنی بات کو مزید مؤثر بنایا، جس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ حاضرین نے اس بھرپور اور دل کو چھو لینے والی تقریر کو سراہا، اور کئی عالمی رہنماؤں نے بھی بعد ازاں پاکستانی وزیر اعظم کے مؤقف کی تائید کی۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان، قرضوں کے سہارے کے بجائے، محنت، عزم اور یکجہتی سے خود کفالت کی راہ اپنائے گا۔ ’’ہم اپنے خون پسینے سے پاکستان کو ایک عظیم قوم بنائیں گے!‘‘ ان کے اس جملے نے محفل میں ایک نیا ولولہ بھر دیا۔





