پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج پشاور کے رنگ روڈ پر ایک بڑے عوامی جلسے کا انعقاد کر رہی ہے، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جلسہ گاہ میں اسٹیج اور ہزاروں کرسیاں نصب کر دی گئی ہیں، جب کہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت ملک بھر سے کارکنان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
جلسے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنما خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی جلسے میں خصوصی طور پر شریک ہوں گی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق جلسے کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلسہ گاہ اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جب کہ داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور تلاشی کے عمل کو یقینی بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما مینا خان آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ’’یہ جلسہ ایک تاریخی اجتماع ثابت ہوگا، جس میں 5 لاکھ سے زائد افراد شرکت کریں گے۔ یہ عمران خان کی کال پر ہو رہا ہے، اور جب بھی خان صاحب کال دیتے ہیں، پورا پاکستان لبیک کہتا ہے۔‘‘
مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ عمران خان نے وفاقی حکومت کے خاتمے کے بعد اسی مقام پر جلسہ کیا تھا، جو انتہائی کامیاب رہا، اور آج 27 ستمبر کا جلسہ بھی اسی روایت کو آگے بڑھائے گا۔ جلسے میں پارٹی قائدین عوامی رابطہ مہم، آئندہ کا لائحہ عمل اور عمران خان کا پیغام پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے باعث جلسے کی تیاریوں میں کسی قسم کی رکاوٹ یا مزاحمت نہیں دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق سرکاری گاڑیاں اور ٹی ایم اے کا عملہ جلسہ گاہ کی صفائی اور دیگر انتظامات میں مصروف رہا، جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ممکنہ تنقید بھی متوقع ہے۔
تاہم مینا خان آفریدی نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ’’جلسے کے تمام انتظامات پارٹی خود کر رہی ہے، یہ پارٹی کے اخراجات پر منعقد ہو رہا ہے اور کارکنان چندہ جمع کر کے اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ سکیورٹی صرف پولیس کی ذمہ داری ہے
یہ جلسہ ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب ملک میں عام انتخابات کے لیے فضا بنتی جا رہی ہے اور پی ٹی آئی ایک بار پھر عوامی سطح پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس جلسے کو پارٹی کی انتخابی مہم کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔





