وفاقی حکومت نے زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے طویل مدتی ریلیف پیکیج تیار کر لیا ہے جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیکیج کے تحت آئندہ تین سال کے لیے زرعی اور صنعتی صارفین کو بجلی فی یونٹ 14 روپے تک سستی ملنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں سیکٹرز کے لیے بجلی کی قیمت تقریباً 23 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک مقرر کی جائے گی۔
پاور ڈویژن نے اس تین سالہ ریلیف پیکیج کو مکمل کر کے وزیراعظم کو منظوری کے لیے پیش کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
اضافی بجلی کے استعمال پر زرعی اور صنعتی صارفین کو 22 سے 23 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک نرخ دیے جائیں گے، جو کہ موجودہ نرخوں کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔
اس وقت زرعی صارفین کو فی یونٹ 38 روپے جبکہ صنعتی صارفین کو 34 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آئندہ چند روز میں اس پیکیج کا اعلان کر سکتے ہیں، اور اس ریلیف سے مہنگائی میں بھی کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کے الیکٹرک نے بجلی کے نرخ کم کر کے صارفین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں
نیپرا نے کے الیکٹرک کے بنیادی ٹیرف میں کمی کر دی، وفاقی حکومت کی درخواستیں مسترد
نیپرا نے کے الیکٹرک کے اوسط بنیادی ٹیرف میں فی یونٹ 7 روپے 60 پیسے کی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد کے الیکٹرک کا بنیادی ٹیرف 39 روپے 97 پیسے سے کم ہو کر 32 روپے 37 پیسے فی یونٹ ہو گیا ہے۔
نیپرا نے مختلف نظرثانی درخواستوں پر بھی فیصلے جاری کیے ہیں، جن میں وفاقی حکومت کی رائٹ آف کلیمز پر نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔
اس طرح نیپرا نے 50 ارب روپے کے رائٹ آف کلیمز سے متعلق اپنے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک نے نیپرا کے اس نئے ٹیرف اور فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اور امکان ہے کہ معاملہ عدالت میں جائے گا۔
نیپرا کے اس فیصلے کا صارفین اور صنعتکاروں پر کیا اثر پڑے گا، اس حوالے سے مزید معلومات کا انتظار ہے۔





